البحث

عبارات مقترحة:

القهار

كلمة (القهّار) في اللغة صيغة مبالغة من القهر، ومعناه الإجبار،...

الواحد

كلمة (الواحد) في اللغة لها معنيان، أحدهما: أول العدد، والثاني:...

الحفي

كلمةُ (الحَفِيِّ) في اللغة هي صفةٌ من الحفاوة، وهي الاهتمامُ...

ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ’’جو بھی مرنے والا مر جاتا ہے تو اس پر رونے والے کھڑے ہوکر کہتے ہیں: ہائے پہاڑ! ہائے میرے سردار! یا اس طرح کے اور الفاظ۔ تو اس مرنے والے پر دو فرشتے متعین کردیے جاتے ہیں جو اسے سینے پر مکے مارتے ہیں (اور کہتے ہیں): کیا تو ایسا ہی تھا؟‘‘

شرح الحديث :

مسلمان کی جب وفات ہوتی ہے اور كوئی اس کی میت پر کھڑا ہو کر روتا اور نوحہ کرتا ہے اورجھوٹ موٹ ہی کہتا جاتا ہے کہ مرنے والا اس کے لئے پہاڑ کی مانند تھا جس کی طرف وہ مصائب میں رجوع کیا کرتا تھا اور یہ کہ وہ اس کا سہارا اور پناہ گاہ تھا یا اس طرح کی دیگر باتیں کرتا ہے تو اس مرنے والے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کے سینے پر مارتے ہوئے اس سے مذاق کے طور پر پوچھتے ہیں : کیا تم ایسے ہی تھے جیسے کہا جا رہا ہے؟


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية